نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Research & dialogue

 Research Article: The Prophetic Sunnah vs. Juristic Reasoning (A Dialogue)

By: Honey bin Tariq (Journalist, Blogger, and Member of the American Society of Journalists & Authors, New York)


1. The Method of Prayer and the Hanafi Approach

Question: When dozens of authentic Hadiths explicitly emphasize the method of prayer practiced by Prophet Muhammad (PBUH) and his Household (Ahl al-Bayt), why do Hanafis insist on following Imam Abu Hanifa’s opinions instead?


Answer: This is a fundamental jurisprudential issue. In principle, the obedience of Prophet Muhammad (PBUH) is obligatory for every Muslim; he is the Seal of the Prophets and our ultimate role model. While the Imams serve as guides, their Ijtihad (reasoning) is a human effort prone to error. For a Muslim, when an authentic Hadith is clear, it must take precedence over any juristic opinion.


2. Authentic References for Raf-al-Yadayn (Raising Hands)

Question: Are the Hadiths regarding Raf-al-Yadayn (raising hands before and after bowing) authentic?


Answer: Yes, the references you provided are highly authentic and found in the most reliable books:


Sahih Bukhari: Hadith Nos. 735 to 739


Sahih Muslim: 861 to 865 & 871 to 873


Sunan an-Nasa'i: 877 to 879, 881 & 1024


Sunan Ibn Majah: 858, 859, 862, 863


Musnad Ahmad & Abu Dawood: Hadith No. 137


These narrations confirm the practice of Raf-al-Yadayn with absolute certainty.


3. The Myth of Abrogation (Naskh)

Question: Hanafis claim that Raf-al-Yadayn was abrogated. What is the reality?


Answer: Hanafis often rely on the narration of Abdullah bin Masud (RA) and Jabir bin Samura (RA). However:


The Narration of Ibn Masud (RA): Renowned Hadith scholars like Imam Bukhari, Imam Ahmad, and Ibn Hibban have classified it as weak (Da’if). It nowhere mentions the word "abrogated."


The Narration of Jabir bin Samura (RA): This refers to raising hands during the final "Salam" of the prayer, not during the Ruku. This is why Muhaddithin (Hadith scholars) have placed it under the "Chapter of Salam."


4. Evidence from the Prophet's Final Days

Question: Did the Prophet (PBUH) practice Raf-al-Yadayn until the end of his life?


Answer: Yes. The narrations of Malik bin al-Huwayrith (RA) (who converted in 10 AH) and Wa'il bin Hujr (RA) (who visited Medina in 9 AH and again in 10 AH) are decisive. They observed the Prophet (PBUH) practicing Raf-al-Yadayn just months before his passing. Had it been abrogated, the Prophet (PBUH) would never have taught this method to these newly converted companions.


5. The Issue of Verbal Intent (Niyyah)

Question: Is it permissible to recite the intention (Niyyah) verbally in Urdu or any other language before starting prayer?


Answer: Intention (Niyyah) is an act of the heart. There is no evidence from the Prophet (PBUH), his Companions, or the Ahl al-Bayt that they ever uttered specific words of intention (whether in Arabic or Urdu). This is an innovation (Bid’ah) that contradicts the Sunnah.


6. Contradictions Regarding Women’s Prayer

Question: If Hanafis insist on a weak narration to justify placing hands below the navel for men, why do they instruct women to place hands on the chest?


Answer: This is a clear contradiction within the Hanafi school. According to Sahih Bukhari (Hadith 631), the Prophet (PBUH) said: "Pray as you have seen me praying." This command is universal for both men and women. The narration for placing hands below the navel involves "Abdul Rahman bin Ishaq al-Kufi," who is rejected and weak according to Hadith scholars, whereas placing hands on the chest is supported by authentic narrations.


7. Critiques of Imam Abu Hanifa by Hadith Scholars

Question: Have Hadith scholars criticized Imam Abu Hanifa?


Answer: Yes, it is a historical fact that many eminent scholars (including Imam Bukhari and Imam Nasa'i) critiqued his reliability in the field of Hadith narration. They noted that his jurisprudence relied heavily on Ra’y (opinion) and Qiyas (analogy), which often led to rulings that appeared to conflict with authentic Hadiths.


Conclusion

The hallmark of a true believer is to submit whenever an authentic saying of Prophet Muhammad (PBUH) is presented. Prioritizing the opinion of any Imam or jurist over the established Sunnah is contrary to the requirements of faith.


Prayer: May Allah grant us the guidance to follow the pure Sunnah of Muhammad (PBUH) without prejudice. Ameen.



تحقیقی مقالہ: سنتِ نبوی ﷺ اور فقہی اجتہاد (ایک مکالمہ)

تحریر و تحقیق: ہنی بن طارق (پاکستانی صحافی و رکن امریکن سوسائٹی آف جرنلسٹس)


۱. نمازِ نبوی ﷺ اور احناف کا رویہ

سوال: جب درجنوں صحیح احادیث سے رسول اللہ ﷺ اور اہل بیت کی نماز کا طریقہ واضح ہے، تو احناف امام ابوحنیفہ کی پیروی پر ضد کیوں کرتے ہیں؟


جواب: یہ ایک حساس فقہی بحث ہے۔ اصولاً نبی اکرم ﷺ کی اطاعت ہر مسلمان پر واجب ہے اور آپ ﷺ ہی خاتم النبیین اور ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ ائمہ کرام کا مقام رہنمائی کا ہے، لیکن ان کا اجتہاد ایک انسانی کاوش ہے جس میں غلطی کا امکان موجود ہے۔ بحیثیت مسلمان، جب صحیح حدیث واضح ہو تو اسے اپنانا ہی اولیٰ ہے۔


۲. رفع الیدین کے مستند حوالہ جات

سوال: کیا رفع الیدین کے حق میں موجود احادیث مستند ہیں؟


جواب: جی ہاں، آپ کے پیش کردہ حوالہ جات درج ذیل کتب میں پوری صحت کے ساتھ موجود ہیں:


صحیح بخاری: حدیث نمبر 735 تا 739


صحیح مسلم: 861 تا 865 اور 871 تا 873


سنن نسائی: 877 تا 879، 881 اور 1024


سنن ابن ماجہ: 858، 859، 862، 863


مسند احمد و ابوداؤد: حدیث 137


یہ تمام احادیث رفع الیدین کے ثبوت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہیں۔


۳. رفع الیدین کی منسوخیت کا دعویٰ اور حقیقت

سوال: احناف کا دعویٰ ہے کہ رفع الیدین منسوخ ہو چکا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟


جواب: احناف عموماً حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت (ابوداؤد: 748) اور جابر بن سمرہؓ کی روایت (مسلم: 430) سے استدلال کرتے ہیں۔ لیکن علمی حقیقت یہ ہے کہ:


ابن مسعودؓ کی روایت: محدثین (امام بخاریؒ، امام احمدؒ، ابن حبانؒ) کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے اور اس میں "منسوخ" کا لفظ کہیں موجود نہیں۔


جابر بن سمرہؓ کی روایت: یہ نماز کے اختتام پر "سلام" پھیرتے وقت ہاتھ اٹھانے سے متعلق ہے، رکوع والے رفع الیدین سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اسی لیے محدثین نے اسے "سلام" کے باب میں درج کیا ہے۔


۴. آخری سنت کا ثبوت (مالک بن حویرثؓ اور وائل بن حجرؓ)

سوال: کیا حضور ﷺ نے آخری عمر تک رفع الیدین کیا؟


جواب: جی ہاں، مالک بن حویرثؓ (10 ہجری میں مسلمان ہوئے) اور وائل بن حجرؓ (9 ہجری میں اسلام لائے اور 10 ہجری میں دوبارہ مدینہ آئے) کی روایات اس کی سب سے بڑی دلیل ہیں۔ یہ صحابہ حضور ﷺ کے آخری ایامِ حیات میں مدینہ آئے اور انہوں نے آپ ﷺ کو رفع الیدین کرتے دیکھا۔ اگر یہ عمل منسوخ ہوتا تو آپ ﷺ ان نئے مسلمان ہونے والے صحابہ کو کبھی یہ طریقہ نہ سکھاتے۔


۵. نماز کی نیت اور زبان کا مسئلہ

سوال: نماز سے قبل اردو یا کسی اور زبان میں نیت کی دعا پڑھنا کیسا ہے؟


جواب: نیت دراصل دل کے ارادے کا نام ہے۔ رسول اللہ ﷺ، صحابہ یا اہل بیت سے زبان سے نیت کے الفاظ (چاہے عربی ہوں یا اردو) ثابت نہیں ہیں۔ یہ ایک غیر شرعی اضافہ ہے جو سنت کے خلاف ہے۔


۶. خواتین کی نماز اور تضادات

سوال: اگر احناف ضعیف روایت کی بنیاد پر ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے پر اصرار کرتے ہیں تو خواتین کو سینے پر ہاتھ باندھنے کا حکم کیوں دیتے ہیں؟


جواب: یہ حنفی فقہ کا ایک واضح تضاد ہے۔ بخاری کی حدیث 631 "صلوا کما رأیتمونی أصلی" (نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھا) ایک عام حکم ہے جو مرد اور عورت دونوں کے لیے برابر ہے۔ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی روایت میں "عبدالرحمن بن اسحاق کوفی" نامی راوی سخت ضعیف اور مجہول ہے، جبکہ سینے پر ہاتھ باندھنے کی صحیح روایات موجود ہیں۔


۷. امام ابوحنیفہؒ اور محدثین کی جرح

سوال: کیا امام ابوحنیفہؒ پر محدثین نے جرح کی ہے؟


جواب: جی ہاں، یہ علمی تاریخ کا حصہ ہے کہ کبار محدثین نے امام صاحب کی روایتِ حدیث پر کلام کیا ہے۔ ان کے نزدیک امام صاحب کا فقہی اجتہاد "رائے" پر زیادہ مبنی تھا، اسی لیے بہت سے مسائل میں ان کی آراء صحیح احادیث کے خلاف نظر آتی ہیں۔


نتیجہ فکر

ایک سچے مومن کا شیوہ یہ ہے کہ جب محمد رسول اللہ ﷺ کا مستند قول سامنے آ جائے تو سر تسلیم خم کر دے۔ سنتِ نبوی ﷺ کے سامنے کسی بھی امام یا فقیہ کی رائے کو ترجیح دینا ایمان کے تقاضوں کے منافی ہے۔


دعا: اللہ تعالیٰ ہمیں تعصبات سے پاک ہو کر خالص سنتِ محمدی ﷺ پر عمل کی توفیق دے۔ آمین۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شب برات

 مولبی سانپ کی روزی روٹی ہر اس کام سے جڑی ہوئی ہے جو قرآن و سنت کے منافی ہیں  کہتے ہیں بخشش کی فیصلوں کی گھڑی والی رات  شب برات ہے   اللہ کا قرآن  جو آسمانی الہامی کلام ہے  جو خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ اقدس پہ جبرائیل امین نے اتارا اللہ کے حکم سے  یہ وہ پاک برگزیدہ کلام جو حضور آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی زبان اطہر سے نکلا  سورہ القدر پڑھیے  ترجمہ  ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا  اور تم کیا جانو ! شب قدر کیا ہے ؟ یہ 1 ہزار مہینوں سے بہتر ہے  جس میں فرشتے اور جبرائیل اپنے رب کے حکم سے نازل ہوتے ہیں ہر کام کے فیصلہ کے لیے  یہ طلوع فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہے  دو نمبری کا منہ کالا ہوگیا  شب قدر کی نقل ( کاپی ) شب برات 

کلمہ گو مشرک

 یوسف 106 وما یومن اکثرھم باللہ آلا وھم مشرکوں اور ان ( مسلمانوں / کلمہ گو ) میں اکثر لوگ ایسے ہیں جو ایمان (  مومن / مسلم ) لانے کے باوجود مشرک ہی ہیں  And most of them believe not in  ALLAH except while they associate other with him  دس استاد فیر کتھے گئی تیری سائنس  وسیلے والی 

وجہ تخلیق کائنات

 الذریات 56 وما خلقت الجن والانس آلا لیعبدون  اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا وہ ہماری عبادت کریں  لو جی سرکار فیر مولبی سانپ دا فارمولہ ٹھس ہوگیا  وجہ تخلیق کائنات حضور ہیں