نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

گمشدہ ستارہ

 میاں محمد ابراہیم خان: عشقِ حق کا مسافر اور ملتان کا گمشدہ ادبی ستارہ

تحریر: ( ہنی بن طارق )


ملتان کی زرخیز مٹی نے ہمیشہ ایسے گوہرِ نایاب پیدا کیے ہیں جنہوں نے علم و ادب کی دنیا میں خاموشی سے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ انھی میں سے ایک درخشاں نام ( میرے پردادا ابو ) میاں محمد ابراہیم خان (1876–1963)  کا ہے، ( دور جہالت میں انکا سابقہ نام ) میراں بخش ہوا کرتا تھا ، میاں صاحب کا تخلص عشق حق تھا ۔قیسم پاکستان سے قبل اپ تاج پورہ رہتے تھے جو آج لاہور کا حصہ ہے ۔اپ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ثابت ہوئے یہاں تک کے جب ملتان منتقل ہوئے لوگوں نے حق گوئی کی بناء پہ آپکا کنویں سے پانی بھرنا بند کردیا آپ نے اپنے بچوں کی مدد سے اپنی حویلی محلہ غریب آباد باغ بیٹھی چوک شہیداں میں کنواں بنایا ۔ پھر مسجد میں داخلہ بین کردیا ۔ آپ نے اپنی حویلی میں ایک باقاعدہ نماز کا کمرہ قائم کیا ۔ اپکی شخصیت فنی مہارت، سیاسی بصیرت اور عشقِ الہی کا ایک حسین امتزاج تھی۔ عرصہ دراز تک پردہِ گمنامی میں رہنے والے اس "ادبی ستارے" کو 1990 کی دہائی میں پروفیسر منیر احمد شامی نے اپنی تحقیق کے ذریعے دوبارہ دریافت کیا۔

شامی صاحب نے اپنی کتاب شاہکار ملتان میں میاں صاحب پہ ایک مضمون باندھا 

میاں محمد ابراہیم خان ایک خاموش طبع انسان تھے جو تنہائی میں لکھنا پسند کرتے تھے۔ 

1913 سے 1947 تک کے پرآشوب دور کو میاں صاحب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ جنگ عظیم اول دوئم دونوں کے دور دیکھ چکے تھے ۔انہوں نے اسے اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ 1937 میں ان کا رسالہ "جنگِ انڈیا" جسے سید الیکٹرک پریس ملتان سے چھاپ کر مفت تقسیم کیا گیا جو مسلمانوں میں تحریکِ آزادی کی روح پھونکنے کا ذریعہ بنا، جس کی پذیرائی کے لیے ( نواب صادق حسین قریشی کے والد ) نواب عاشق حسین قریشی جیسی مسلم لیگی شخصیت خود ان کے گھر تشریف لائے اور خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے آپنی شاعری کے توسط سے انگریزوں کی غلامی، معاشرتی بدامنی اور رشوت ستانی کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔


فنی مہارت اور بین الاقوامی اعزاز

میاں صاحب پیشے کے اعتبار سے ایک قابلِ فخر انجینئر تھے جنہوں نے دہلی اور پھر بغداد (عراق) کے پاور ہاؤسز میں بطور انچارج خدمات سر انجام دیں۔ بغداد میں قیام کے دوران ان کی ایک اہم فنی ایجاد کے اعتراف میں برطانوی حکومت نے انہیں "وکٹوریہ کراس میڈل" سے نوازا، جو ان کی پیشہ ورانہ عظمت کا بین الاقوامی ثبوت ہے۔


قرآن و حدیث کی روشنی اور "سی حرفی" کا کمال

میاں صاحب کا کلام محض شاعری نہیں بلکہ قرآن و حدیث کے عالمگیر پیغام کی شعری تفسیر ہے۔ انہوں نے پنجابی شاعری کی صنف "سی حرفی" میں وہ کمال حاصل کیا جو بہت کم شعراء کے حصے میں آتا ہے۔ ان کی فنی پختگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک ہی قافیے میں 126 مصرعوں پر مشتمل مثنوی تحریر کی، جو فنِ شاعری میں ایک نہایت مشکل سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ ان کی تصانیف جیسے "حال نامہ"، "حکومت نامہ" اور "شہادت نامہ امام حسینؑ" ان کے فکری تنوع کی عکاسی کرتی ہیں۔

مذہبی اصلاح پسندی اور سماجی شعور

میاں صاحب ایک "حق پرست" شاعر تھے جنہوں نے مذہب کے نام پر تماشہ لگانے والے نام نہاد پیروں اور مجاوروں کی سخت گرفت کی۔ ان کا مشہور مصرعہ:


"تساں مستوراں دے پردے لاہ دتے، مرداں نوں نا مرد بنا دتا"


آج کے دور میں بھی اخلاقی پستی اور بے حسی پر ایک گہری چوٹ محسوس ہوتا ہے۔ ان کی نظم "حال نامہ" کا ٹیپ کا مصرعہ "اج گھر گھر حال کھیڈائی دا، لکھ لعنت اس وڈیائی دا" ان کے اس دردمند دل کی عکاسی کرتا ہے جو معاشرتی ملمع کاری سے تڑپ اٹھتا تھا۔



کتاب پنجابی کلیات صفحہ نمبر 1 اور 2: 

بچپن کی یادیں اور شاعری کا آغاز

اس حصے میں عبدالمجید خان ساجد صاحب ( متوفی ) اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ابا جی (میاں محمد ابراہیم خان) کو ہمیشہ قلم اور کاغذ کے ساتھ مصروف دیکھا۔


ان کا کلام چار بڑی قسموں پر مشتمل ہے: مذہبی، سیاسی، سماجی اور اخلاقی۔


تصانیف: ان کی اہم کتابوں کے نام یہ ہیں:


حال نامہ: (اپنے دور کے حالات)


حکومت نامہ: (سیاسی بصیرت)


قحط نامہ: (معاشرتی مسائل)


تفتیش نامہ: (اصلاحی پہلو)


شہادت نامہ امام حسینؑ: (مذہبی عقیدت)

میاں صاحب کا عقیدہ تھا کہ نجات صرف اللہ کے حکم میں ہے۔ انہوں نے عیاش مردوں اور بے حس عورتوں کے رویوں پر "مرثیہ" لکھا۔ وہ معاشرے میں پھیلی بے غیرتی اور اخلاقی پستی پر تڑپ اٹھتے تھے۔


اردو ترجمہ (شعر):


"سب توں ودھ ایہہ حق شرع دا، جس دے وچ نہ شک ذرا دا"

"سن لو حق اوہ کم خدا دا، ایہو راہ سچائی دا"

(ترجمہ: سب سے بڑا حق اللہ کی شریعت کا ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ اللہ کے کاموں میں ہی حق ہے اور یہی سچائی کا راستہ ہے۔)


1913 میں میاں صاحب بغداد (عراق) میں تھے جب پہلی جنگِ عظیم چھڑی۔ وہاں انہوں نے انگریزوں کی مکاری اور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو قریب سے دیکھا۔


اردو ترجمہ (نصیحت):


"رکھ دیوا عملاں والا نی، رکھ محل اجالا نی"

(ترجمہ: اپنے اعمال کا چراغ روشن رکھو تاکہ تمہارے گھروں اور محلوں میں اجالا رہے۔)


"حال نامہ" میاں صاحب کی ایک ایسی نظم ہے جو اپنے دور کے معاشرتی بگاڑ، مذہبی ملمع کاری اور اخلاقی پستی پر گہری چوٹ کرتی ہے۔ اس نظم کے ہر بند کے بعد ایک ہی "ٹیپ کا مصرعہ" دہرایا گیا ہے جو ان کی دلی تکلیف کو بیان کرتا ہے:


"اج گھر گھر حال کھیڈائی دا، لکھ لعنت اس وڈیائی دا"

(آج گھر گھر تماشہ لگا ہوا ہے، ایسی بڑائی اور شہرت پر لاکھوں لعنت ہو۔)


"فقر نامہ" میں میاں صاحب نے اپنی عاجزی اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو موضوع بنایا ہے۔ اس نظم کا ٹیپ کا مصرعہ روح کو تڑپا دینے والا ہے:


"مولا کوئی وی نہ دردی دسدا تیرے سوا"

(ترجمہ: اے میرے مولا! تیرے سوا مجھے کوئی بھی ہمدرد اور دکھ بانٹنے والا نظر نہیں آتا۔)


سنیا اتریا رب امریکہ 

اہدا منیا اساں طریقہ

غصہ کھا وچوں افریقہ 

سن کے اٹھیا خر دجال

پکڑی اساں تساں بدچال

تان ایہہ ساڈا ہویا حال


آج پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلم ممالک کی حالت زار کو 100 سال قبل بھانپ کے بیان کردیا تھا 


ایک اور شاہکار نظم


"اک ٹولے دے مذہب سازاں، کیتے پاڑ تہتر ٹولے"


ترجمہ: ایک ہی مذہب کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے امت کو تہتر (73) ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔


مصرعہ (جو ہر بند کے بعد دہرایا جاتا ہے):

"اک ٹولے دے مذہب سازاں، کیتے پاڑ تہتر ٹولے"


پہلا بند:

دین اتاریا سی جو اللہ، سالم چھڈ گیا نبی اللہ

پچھوں کیہہ کیتا انہاں واللہ، دساں سڑ بل ہوون کولے


ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ایک کامل اور سالم دین نازل کیا تھا جسے اللہ کے نبی (ص) امت کے لیے مکمل اور واضح حالت میں چھوڑ کر گئے تھے۔

(مگر) اللہ گواہ ہے کہ ان کے بعد ان لوگوں نے کیا حشر کیا؟ (میں کیا بتاؤں؟) میں تو ان کی کرتوتیں بتا بتا کر غصے اور دکھ سے جل کر کوئلہ ہو رہا ہوں۔


دوسرا بند:

کدھرے بنے خدا متکبری، کدھرے منکر قدری جبری

کدھرے گبری کدھرے قبری، کدھرے خیری وچ وچولے


ترجمہ: (فرقہ واریت کا یہ حال ہوا کہ) کہیں تو کچھ لوگ متکبرانہ خدائی کا دعویٰ کرنے لگے (نام نہاد "پیر" اور "خدا" بن گئے)۔ کہیں وہ تقدیر کے معاملے میں "منکر" (انکار کرنے والے) بن گئے، کہیں "قدری" (انسان کو مکمل خود مختار سمجھنے والے) یا "جبری" (انسان کو مجبورِ محض سمجھنے والے) فکری فرقے پیدا ہو گئے۔

کہیں لوگ غیر مسلموں (گبری) کے طریقوں پر چل پڑے، کہیں وہ "قبروں" (قبری) کے پجاری بن گئے اور کہیں وہ "خیری وچ وچولے" (معاملات میں بے سود بحث و مباحثے) میں الجھے ہوئے ہیں۔


تیسرا بند:

کئی روافض کئی خوارج، کون انہاں دے گنے مخارج

حکم شرع وچ ہندے خارج، گند نکلے جد گل پھولے


ترجمہ: (تاریخی فرقوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ) کتنے ہی لوگ "روافض" (شعیہ فکری رجحان) بن گئے، کتنے ہی "خوارج" (انتہا پسند فکری رجحان)۔ کون ہے جو ان کے مختلف "مخارج" (نکلنے کے طریقوں اور نظریات) کو گن سکے؟

یہ سب (اپنے نظریات کی وجہ سے) شریعت کے حکم سے خارج ہو جاتے ہیں۔ جب ان کی حقیقت کو "پھولا" (کھولا) جائے تو ان کے نظریات سے صرف "گند" (گھناؤنی سچائی) ہی باہر نکلتی ہے۔


چوتھا بند:

مارن پھوک حلاج حلولی، رگ رگ دھاگئی اے مجہولی

مارے ساڑے چاڑھے سولی، قفل کفر دے کیہڑا کھولے


ترجمہ: (صوفیانہ گمراہیوں پر ضرب لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ) کتنے ہی لوگ حسین بن حلاج کے "انا الحق" (میں حق ہوں) کے نعرے کو اپنی "پھوک" (ہوا) بنا کر "حلولی" (خدا کے انسان میں حلول کرنے کا عقیدہ) کی طرف چل پڑے۔ ان کی رگ رگ میں ایک "مجہولی" (نادانی اور جہالت) دوڑ گئی ہے۔

انہوں نے (نام نہاد عشقِ الٰہی میں) خود کو "مارا"، "جلا ڈالا" اور "سولی" پر چڑھ گئے، لیکن ان کے دلوں پر لگے ہوئے "کفر کے تالے" (گمراہی) کو کون کھول سکتا تھا؟


پانچواں بند:

چار قسم دے نیں معتزلے، سب کذاب مسلمان بدلے

آئے چھڈ غضب دے نزلے، باتاں دے چک گھڑن بتولے


ترجمہ: (معتزلہ فرقے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ) یہ چار قسم کے "معتزلہ" (عقلی استدلال پر حد سے زیادہ انحصار کرنے والے) پیدا ہوئے ہیں، یہ سب کے سب "کذاب" (جھوٹے) ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے عقیدے کو "بدل" دیا ہے۔

ان کے باطل نظریات کی وجہ سے (ملت پر) غضب کے نزلے آئے ہیں۔ یہ لوگ صرف باتیں بناتے ہیں اور طرح طرح کے "بتولے" (بے بنیاد نظریات اور بہانے) گھڑتے رہتے ہیں۔


چھٹا بند:

کلبِ علی سدوان حقیقی، انہاں تھیں ودھ کیہہ ہور زندیقی

خالق مالک چھڈ حقیقی، گئے دو طرفوں وانگ ممولے


ترجمہ: (گمراہ صوفیانہ القابات پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ) کچھ لوگ خود کو "کلبِ علی" (حضرت علی کا کتا) کہلواتے ہیں، وہ اسے اپنا حقیقی فخر سمجھتے ہیں۔ (میاں صاحب کہتے ہیں کہ) ان سے بڑھ کر اور کون "زندیق" (گمراہ اور بے دین) ہو سکتا ہے؟

انہوں نے "حقیقی خالق و مالک" کو چھوڑ دیا ہے اور (اپنے گمراہ القابات کی وجہ سے) وہ "دو طرفوں وانگ ممولے" (ایک چھوٹے پرندے کی طرح) ہو گئے ہیں جو نہ ادھر کا رہا اور نہ ادھر کا (نہ دین کا رہا اور نہ دنیا کا)۔


اک حنبلی دوجے احنافی، تیجے مالکی چوتھے شافعی

اس تھیں ہندا ثابت کافی، بیجی کنک تے اگے چھولے

ترجمہ: ایک گروہ حنبلی ہے، دوسرا احناف ، تیسرا مالکی اور چوتھا شافعی کہلاتا ہے۔ ان کی اس تقسیم اور باہمی کھینچ تان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جیسے کسی نے بوئی تو گندم تھی لیکن آگے سے چنے (چھولے) اگ آئے ہوں۔ (یعنی اصل دین کچھ تھا اور ان کی بحثوں نے اسے کچھ اور بنا دیا)۔


ہر وچ آکھن ہر تبریزی، گھر گھر علیؓ کہن گردیزی

ویکھو کیسی شر انگیزی، ایہہ سب موذی مشرک ٹولے

ترجمہ: ہر کوئی خود کو شمس تبریز کا پیروکار کہتا ہے، اور ہر گھر میں حضرت علی (رض) کے نام پر (گردیزیوں کی طرح) دعوے کیے جا رہے ہیں۔ دیکھو یہ کیسی فتنہ انگیزی ہے، میاں صاحب کے نزدیک یہ سب تکلیف دہ اور شرک آمیز رویے ہیں جو اصل توحید سے دور لے جاتے ہیں۔


بعض یزید یزید پیٹیندے، بعض فرید فرید کلیندے

بعض موئے تقلید پکھیندے، سن سن عرش اللہ دا ڈولے

ترجمہ: کچھ لوگ یزید (کی مخالفت یا حمایت) کے نام پر شور مچا رہے ہیں، تو کچھ "بابا فرید فرید" پکار کر غلو کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ مردہ تقلید میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ ان کی ان من گھڑت باتوں اور شور سے اللہ کا عرش بھی لرز اٹھتا ہے۔


کئی کئی رانی خاں دے بچے، آکھن اسی پیمبر سچے

جھوٹ طوفانوں بھانبڑ مچے، قہر غضب تھیں نکلن شعلے

ترجمہ: کئی لوگ خود کو بہت بڑی چیز (رانی خاں کے بچے) سمجھتے ہیں اور (اپنی باتوں سے) یہ تاثر دیتے ہیں جیسے وہی سچے پیغمبر کے وارث ہیں۔ ان کے جھوٹ کے طوفانوں نے ایسے بھانبڑ (آگ) مچا رکھے ہیں جن سے غضب اور قہر کے شعلے نکل رہے ہیں۔



وفات: ان کا انتقال 26 اپریل 1963 کو ہوا۔

یہ تاریخ عبدالمجید خان ساجد ( متوفی ) نے کتاب پنجابی کلیات میں درج کی جبکہ  انکے ڈیتھ سرٹیفکیٹ ( جو  راقم کے پاس محفوظ ہے ) کے مطابق انکی وفات 16 اپریل کو ہوئی 

میاں محمد ابراہیم خان عشق حق عرف میراں بخش اس دنیا میں نہیں لیکن میرے دل کی دل میں آباد ہیں 

اللہ رب العالمین انکی مغفرت و درجات بلند فرمائے آمین 



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شب برات

 مولبی سانپ کی روزی روٹی ہر اس کام سے جڑی ہوئی ہے جو قرآن و سنت کے منافی ہیں  کہتے ہیں بخشش کی فیصلوں کی گھڑی والی رات  شب برات ہے   اللہ کا قرآن  جو آسمانی الہامی کلام ہے  جو خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ اقدس پہ جبرائیل امین نے اتارا اللہ کے حکم سے  یہ وہ پاک برگزیدہ کلام جو حضور آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی زبان اطہر سے نکلا  سورہ القدر پڑھیے  ترجمہ  ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا  اور تم کیا جانو ! شب قدر کیا ہے ؟ یہ 1 ہزار مہینوں سے بہتر ہے  جس میں فرشتے اور جبرائیل اپنے رب کے حکم سے نازل ہوتے ہیں ہر کام کے فیصلہ کے لیے  یہ طلوع فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہے  دو نمبری کا منہ کالا ہوگیا  شب قدر کی نقل ( کاپی ) شب برات 

کلمہ گو مشرک

 یوسف 106 وما یومن اکثرھم باللہ آلا وھم مشرکوں اور ان ( مسلمانوں / کلمہ گو ) میں اکثر لوگ ایسے ہیں جو ایمان (  مومن / مسلم ) لانے کے باوجود مشرک ہی ہیں  And most of them believe not in  ALLAH except while they associate other with him  دس استاد فیر کتھے گئی تیری سائنس  وسیلے والی 

وجہ تخلیق کائنات

 الذریات 56 وما خلقت الجن والانس آلا لیعبدون  اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا وہ ہماری عبادت کریں  لو جی سرکار فیر مولبی سانپ دا فارمولہ ٹھس ہوگیا  وجہ تخلیق کائنات حضور ہیں