نماز: قرآنِ مجید کے آئینے میں
تحریر: ہنی بن طارق
اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں 'نماز' کو وہ مرکزی مقام حاصل ہے جس کے بغیر دین کی عمارت مکمل نہیں ہوتی۔ اکثر ذہنوں میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا قرآنِ مجید میں نماز کی کیفیت اور ارکان کا ذکر موجود ہے؟ جواب یہ ہے کہ قرآنِ حکیم نے نہ صرف نماز کا حکم دیا، بلکہ اس کے بنیادی ڈھانچے، طہارت اور اوقات کی تفصیلات بھی بیان فرمائی ہیں۔
ذیل میں ان قرآنی آیات کا تذکرہ ہے جو نماز کی فرضیت اور اس کی ہیئت کو ثابت کرتی ہیں:
۱. وضو اور پاکیزگی (نماز کی پہلی شرط)
نماز کے لیے ظاہری پاکیزگی اور وضو کے فرائض قرآن نے سورہ المائدہ میں بیان فرمائے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ "اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک (دھو لو)۔" (سورہ المائدہ، آیت: 6)
۲. وقت کی اہمیت (اوقاتِ صلوٰۃ)
نماز کے مخصوص اوقات کا تعین اس آیتِ کریمہ سے ثابت ہوتا ہے:
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا "بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں میں فرض ہے۔" (سورہ النساء، آیت: 103) جبکہ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کے اوقات کی طرف اشارہ سورہ بنی اسرائیل (آیت: 78) میں ملتا ہے۔
۳. آغازِ نماز اور قیام (تکبیر و ادب)
نماز کا آغاز اللہ کی کبریائی سے کرنے اور باادب کھڑے ہونے کا حکم ان آیات میں ہے:
تکبیرِ تحریمہ: وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجیے۔ - سورہ المدثر: 3)
قیام: وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ (اور اللہ کے سامنے باادب کھڑے رہا کرو۔ - سورہ البقرہ: 238)
۴. رکوع اور سجود (نماز کی کیفیت)
نماز کی عملی صورت میں رکوع اور سجدہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ "اے ایمان والو! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو۔" (سورہ الحج، آیت: 77)
۵. تسبیحات (ذکرِ الٰہی)
رکوع اور سجدے میں پڑھی جانے والی تسبیحات کی اصل ان آیات میں پوشیدہ ہے:
تسبیحِ عظمت: فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ (پس اپنے عظمت والے رب کے نام کی تسبیح کیجیے۔ - سورہ الواقعہ: 74)
تسبیحِ رفعت: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (اپنے سب سے بلند رب کے نام کی تسبیح کیجیے۔ - سورہ الاعلیٰ: 1)
۶. فراغت کے بعد رجوع و ذکر
نماز کے اختتام پر اللہ کی طرف متوجہ رہنے کا حکم یوں دیا گیا:
فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا "پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے بھی اور بیٹھے بھی۔" (سورہ النساء، آیت: 103)
حاصلِ کلام: قرآنِ مجید نے نماز کے تمام ستون (پاکی، وقت، قیام، رکوع، سجود اور ذکر) بیان کر دیے ہیں۔ ان احکامات کی عملی تفسیر ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سنت سے ملتی ہے، جس نے ان ارکان کو ایک کامل صورت عطا فرمائی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں