مماثلت
مماثلت ملاحظہ کیجیے یہودیت اور شیعیت میں کتنا اتفاق ہے
نام: اسے عبرانی زبان میں "ہادیس" (Hamesh) یا "میریئم کا ہاتھ" کہا جاتا ہے۔
علامت: یہ یہودیت میں محافظ علامت (Amulet) کے طور پر استعمال ہوتا ہے جو نظرِ بد (Evil Eye) سے بچاؤ اور خیر و برکت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ہندسہ: اس کے پانچ حصے تورات کی پانچ کتابوں (پینٹاٹیوچ) یا عبرانی حرف "ہ" (Heh) کی نمائندگی کرتے ہیں، جو خدا کے نام کا مخفف ہے۔
۲. اسلام اور شیعہ روایات (پنجتن پاک)
نام اور نسبت: مسلمانوں بالخصوص شیعہ مکتبِ فکر میں اسے "پنجہ" یا "پنجتن" کہا جاتا ہے۔
علامت: اس کے پانچوں انگھوٹے اور انگلیاں خمسہ طیبہ یعنی حضرت محمد مصطفیٰ (ص), حضرت علی (ع), حضرت بی بی فاطمہ زہرا (س), حضرت امام حسن (ع) اور حضرت امام حسین (ع) کی مقدس ہستیوں کی یادگار یا نسبت کے طور پر دیکھی جاتی ہیں۔
ثقافتی رواج: برصغیر اور مشرق وسطیٰ میں اسے تزیین و آرائش، علمِ عزاداری، اور گھروں کی حفاظت یا برکت کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
۳. تاریخی پس منظر
اشتراکِ ثقافت: تاریخی محققین کے مطابق، ہاتھ کی یہ علامت اسلام اور یہودیت دونوں سے بہت پرانی ہے۔ قدیم سامی تہذیبوں (جیسے فونیشین اور قرطاج) میں اسے دیوی تانیت (Tanit) کی طاقت اور محافظت کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
ارتقاء: وقت کے ساتھ ساتھ یہ علامت مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور بحیرہ روم کی مختلف تہذیبوں (یہودی، اسلامی اور مسیحی) میں ثقافتی طور پر رچ بس گئی اور ہر مذہب یا گروہ نے اس کے اپنے فکری پس منظر کے مطابق معنی تراش لیے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں