لاہور میں علی ہجویریؒ کے مزار کی تعمیرِ نو پر اربوں روپے لٹائے جا رہے ہیں۔ مگر اسی مزار کے عین باہر، ایک عقیدت مند کی بیوی اور بیٹی—جو وہاں برکتیں سمیٹنے آئے تھے—کھلے مین ہول میں گر کر لقمہ اجل بن گئیں۔
نہ تو 'داتا' (خزانے بانٹنے والا) انہیں بچانے آیا، اور نہ ہی مزار کے گدی نشینوں کو اس آنے والے حادثے کا کوئی 'کشف' یا غیبی اشارہ ملا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ شخصیت 60 سے زائد اسلامی ممالک میں گمنام ہے، لیکن یہاں ان کے معجزات کے دعوے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔
ان 'کرشماتی' طاقتوں کی وسعت ملاحظہ فرمائیں! 😝
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں