نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Hell 🐕

 When Fatwas Fall Prey to Expediency: An Intellectual Paradox

By: Honey Bin Tariq


It has been one of the greatest tragedies in human history that power corridors have always used religion as a shield for their survival. Today, when certain clerics label political and social protest as "rebellion" (Khurooj) or "mischief" (Fasad)—branding it a path to hell—it is natural to ask: by what scale shall we then judge the Battle of Karbala, the greatest sacrifice in history against tyranny?


1. The Hussaini Character vs. The Courtly Narrative

If absolute obedience to the state and bowing before every command is the essence of faith, then why is the refusal of the Prophet's ﷺ grandson, Hazrat Imam Hussain (A.S), to pledge allegiance to Yazid not labeled as rebellion? The truth is, Imam Hussain (A.S) taught the Ummah that when the foundations of a system are built on oppression, coercion, and un-Islamic principles, silence itself becomes a sin.


2. The Politics of Fatwas and the Mantra of "Kharijism"

The reckless use of terms like "Kharijite" and "Rebel" in the current era reflects a profound lack of intellectual integrity. The Khawarij were those who took up arms against the champions of justice, not those who raise their voices for systemic reform and human rights. When scholars blur the lines between right and wrong to remain loyal only to "power," they lose their sanctity in the court of public opinion.


3. The Consequence of Intellectual Contradiction

The class that brings people to tears by narrating the calamities of Karbala from the pulpit, yet supports the henchmen of a Yazidi-style governance in practical life, is a source of intellectual chaos. We condemn Yazid, Shimar, and Ibn-e-Ziad because they trampled principles for the sake of power; therefore, there cannot be a different yardstick for those following in their footsteps today.


Conclusion

Islam is synonymous with "Justice," not merely "Order." If the fatwas of scholars are reserved only for the weak while providing cover for the injustices of the powerful, then such conduct is diametrically opposed to the Shabbiri (Hussaini) tradition. History bears witness that fatwas of expediency eventually fade away, but the voice of Truth remains eternal.


جب فتوے مصلحت کی بھینٹ چڑھ جائیں: ایک فکری تضاد

تاریخِ انسانی کا یہ سب سے بڑا المیہ رہا ہے کہ مقتدر حلقوں نے ہمیشہ مذہب کو اپنی بقا کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے۔ آج جب بعض علماء کی جانب سے سیاسی و سماجی احتجاج کو "خروج" یا "فساد" قرار دے کر اسے جہنم کا راستہ بتایا جاتا ہے، تو ذہن میں یہ سوال ابھرنا فطری ہے کہ پھر ظلم کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی قربانی، یعنی معرکہ کربلا، کو ہم کس ترازو میں تولیں گے؟


۱. حسینیؑ کردار اور درباری بیانیہ

اگر ریاست کی ہر حال میں اطاعت اور ہر حکم کے آگے سر جھکانا ہی دین ہے، تو پھر نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ کا یزید کی بیعت سے انکار اور اس کے جابرانہ نظام کے خلاف میدان میں نکلنا (خاکم بدہن) خروج کیوں نہیں کہلاتا؟ حقیقت یہ ہے کہ امام حسینؑ نے امت کو یہ سبق دیا کہ جب نظام کی بنیادیں ظلم، جبر اور غیر اسلامی اصولوں پر قائم ہو جائیں، تو خاموشی گناہ بن جاتی ہے۔


۲. فتووں کی سیاست اور خوارجیت کی گردان

موجودہ دور میں "خوارجی" اور "باغی" کی اصطلاحات کا بے دریغ استعمال دراصل علمی دیانت کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ خوارج وہ تھے جنہوں نے عدل و انصاف کے علمبرداروں کے خلاف تلوار اٹھائی، نہ کہ وہ جو نظام کی درستی اور انسانی حقوق کی پالی کے لیے آواز بلند کریں۔ جب علماء حق اور باطل کے فرق کو مٹا کر صرف "طاقت" کے وفادار بن جائیں، تو وہ عوامی عدالت میں اپنا وقار کھو دیتے ہیں۔


۳. علمی تضاد کا نتیجہ

وہ طبقہ جو منبر سے کربلا کے مصائب سنا کر لوگوں کو رلاتا ہے، لیکن عملی زندگی میں یزیدی طرزِ حکومت کے آلہ کاروں کی حمایت کرتا ہے، وہ دراصل عوام کے فکری انتشار کا باعث بن رہا ہے۔ آپ یزید، شمر اور ابنِ زیاد کی مذمت اس لیے کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے اقتدار کی خاطر اصولوں کو پامال کیا؛ لہٰذا آج کے دور میں بھی جو لوگ اسی نقشِ قدم پر ہیں، ان کے لیے الگ پیمانہ نہیں ہو سکتا۔


نتیجہ: دین اسلام "عدل" کا نام ہے، محض "نظم و ضبط" کا نہیں۔ اگر علماء کے فتوے صرف کمزور کے لیے ہوں اور طاقتور کی ناانصافیوں پر پردہ ڈالیں، تو یہ طرزِ عمل شبیری (حسینی) روایت کے عین متصادم ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مصلحت کے فتوے مٹ جاتے ہیں، لیکن حق کی آواز ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔



#HoneyBinTariq #IntellectualParadox #JusticeInIslam #BattleOfKarbala #HussainiLegacy #JournalismWithPurpose #FreedomOfExpression #TruthToPower #IslamicJustice #PoliticalAwareness #JusticeForAll #HumanRights

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شب برات

 مولبی سانپ کی روزی روٹی ہر اس کام سے جڑی ہوئی ہے جو قرآن و سنت کے منافی ہیں  کہتے ہیں بخشش کی فیصلوں کی گھڑی والی رات  شب برات ہے   اللہ کا قرآن  جو آسمانی الہامی کلام ہے  جو خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ اقدس پہ جبرائیل امین نے اتارا اللہ کے حکم سے  یہ وہ پاک برگزیدہ کلام جو حضور آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی زبان اطہر سے نکلا  سورہ القدر پڑھیے  ترجمہ  ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا  اور تم کیا جانو ! شب قدر کیا ہے ؟ یہ 1 ہزار مہینوں سے بہتر ہے  جس میں فرشتے اور جبرائیل اپنے رب کے حکم سے نازل ہوتے ہیں ہر کام کے فیصلہ کے لیے  یہ طلوع فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہے  دو نمبری کا منہ کالا ہوگیا  شب قدر کی نقل ( کاپی ) شب برات 

کلمہ گو مشرک

 یوسف 106 وما یومن اکثرھم باللہ آلا وھم مشرکوں اور ان ( مسلمانوں / کلمہ گو ) میں اکثر لوگ ایسے ہیں جو ایمان (  مومن / مسلم ) لانے کے باوجود مشرک ہی ہیں  And most of them believe not in  ALLAH except while they associate other with him  دس استاد فیر کتھے گئی تیری سائنس  وسیلے والی 

وجہ تخلیق کائنات

 الذریات 56 وما خلقت الجن والانس آلا لیعبدون  اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا وہ ہماری عبادت کریں  لو جی سرکار فیر مولبی سانپ دا فارمولہ ٹھس ہوگیا  وجہ تخلیق کائنات حضور ہیں